نئی دہلی، 19؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کے کم وبیش 4 ہزار 800 منتخب اراکین اسمبلی و پارلیمان نے پیر کو 15 ویں صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ صبح 10بجے شروع ہونے والی ووٹنگ کی کارروائی شام5 بجے ختم ہوئی جس میں 98.90 فیصد اراکین نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس کی اطلاع ریٹرننگ آفیسر پی سی مودی نے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد دی۔
وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اپنی پیرانہ سالی اور علالت کے باوجود ووٹ دینے پہنچے۔انہیں وہیل چیئر پر لایاگیا۔ اس کے ساتھ ہی پورے ملک کی تمام اسمبلیوں میں بھی ووٹنگ ڈالے گئے۔ الیکشن کے لیے تمام ایم ایل ایز کے ووٹوں کی کل ویلیو5 لاکھ 43 ہزار 231 ہے جبکہ اراکین پارلیمان کے ووٹوں کی کل ویلیو5 لاکھ43 ہزار 200ہے۔ یعنی ووٹوں کی کل ویلیو 10 لاکھ 86 ہزار 431 ہوگی۔
مختلف سیاسی پارٹیوں نے جو موقف اختیار کیا ہےا س کو دیکھتے ہوئے این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو کی فتح یقینی ہے۔ انہیں 60 فیصد ووٹ ملنے کی امید تو پہلے ہی تھی مگر پیر کوووٹنگ کے دوران گجرات میں این سی پی، یوپی میں سماجوادی پارٹی اورآسام میں کانگریس کے اراکین کی جانب سے کراس ووٹنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مرمو کے حق میں ہونے والی کراس ووٹنگ نے ان کی فتح کے امکانات اوربھی بڑھا دیئے ہیں۔
دوسری طرف اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا آخری مرحلے تک مقابلے پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹنگ کے دوران پیسوں کا بھی کھیل ہورہاہے۔ انہوں نے اراکین پارلیمان و اسمبلی سے اُن کے حق میں ووٹنگ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ الیکشن بہت ہی اہم ہے۔ یہ ملک کی جمہوریت کی راہ مقرر کرےگااور یہ طے کریگا کہ ملک میں جمہوریت باقی رہے گی یا نہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’میں تمام رائے دہندگان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے دل کی آواز کو سنیں۔ یہ خفیہ رائے دہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ملک کی بھلائی اور جمہوریت کو بچانے کیلئے ووٹنگ کریں گے۔ ‘‘ انہوں نے یہ باتیں پارلیمنٹ جہاں ووٹنگ جاری تھی، کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔
صدارتی الیکشن حالانکہ خفیہ بیلٹ کے ذریعہ ہوتا ہے اوراس الیکشن میں سیاسی پارٹیاں وہپ جاری نہیں کر سکتیں تاہم پارٹیاں اس بات کا اعلان کرچکی ہیں کہ وہ کس کے حق میں ہیں۔اس بنیاد پر گوا میں این سی پی کے واحد رکن اسمبلی کے تعلق سے اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے پارٹی کے موقف کے خلاف این ڈی اے کی امیدوارکے حق میں ووٹ دیا۔ دوسری جانب یوپی سے بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ سماجوادی پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی نے این ڈی اے کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔ واضح رہےکہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یاد ونے یشونت سنہا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سماجوادی ایم ایل اے انہیں ووٹ دیں گے۔ اسی طرح آسام میں بدرالدین اجمل کی پارٹی نے الزام لگایا کہ یہاں کانگریس کے اراکین اسمبلی کراس ووٹنگ کرتے ہوئے مرمو کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں تاہم کانگریس نے ا س الزام کی تردید کی ہے۔